
مولانا محمد الیاس قادری صاحب
کی اپنی بیٹی کو رخصتی کے وَقْت 12نصیحتیں۔
شوہر کی طرف سے ملنے والا ہر حکْم جو خِلافِ شَرْع نہ ہو بجا لانا ضَروری ہے۔
اپنے شوہر اور ساس کا کھڑے ہو کر اِسْتِقْبَال کیجئے اور کھڑے ہو کر ہی رُخْصَت بھی کیجئے۔
دن میں کم از کم ایک بار (مُمکِن ہو تو) ساس کی دَسْت بَوسی کیجئے۔
. اپنی ساس اور سُسر کا وَالِدَین کی طرح اِکرام کیجئے ۔ان کی آواز کے سامنے اپنی آواز پَسْت رکھئے۔ان کے اور اپنے شوہر کے سامنے جی جناب سے بات کیجئے۔
شوہر ضَرورتاً سزا دینے کا مجاز ہے۔ایسا ہو تو صَبْر و تَـحَمُّل کا مُظاہَرہ کیجئے، غُصّہ کر کے یا زبان درازی کر کے گھر سے رُوٹھ کر آجانے کی صُورَت میں آپ پر میکے کے دروازے بند ہیں۔
ہاں بغیر روٹھے شوہر کی اِجازَت کی صُورَت میں جب چاہیں میکے آ سکتی ہیں۔
اپنے میکے کی کوتاہیاں شوہر کو بتا کر غیبت کے گناہِ کبیرہ میں نہ خود مُبْتَلا ہوں نہ اپنے شوہر کو سُننے کے گناہِ کبیرہ میں مُلَوَّث کریں۔
اپنی بے عملی یا لا علمی کو ڈھانپنے کے لئے اِس طرح کہہ دینا کہ مجھے تو والِدَین نے یہ نہیں سکھایا سَخْت حَمَاقَت ہے۔
بہارِ شریعت حِصّہ 7 سے نان نفقہ کا بیان، زَوجَین کے حُقُوق وغیرہ کا مُطَالَعہ کرلیجئے۔
اپنے لئے کسی قِسْم کا سُوال اپنے شوہر سے کر کے ان پر بوجھ مَت بننا۔ ہاں اگر وہ مُقَرَّر کردہ حُقُوق ادا نہ کریں تو مانگ سکتی ہیں۔
مِہمان کی خِدْمَت سَعَادَت سمجھ کر کرنا، اس کے اَخراجات کے مُعَامَلے میں شوہر پر بے جا بوجھ مَت ڈالنا۔اپنے والِد (یعنی الیاس قادری ) سے طَلَب کر لینا۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ مَایُوسی نہیں ہوگی اور اگر وہ خوش دِلی سے رَضا مند ہوں تو ان کی سَعَادَت مندی ہوگیی شوہر کی اِجازَت کے بِغیرہرگزگھرسےنہ نکلیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں